اور کتنی تکلیف ہوتی نا جب آپ خود کو ہی نہ سمجھ پائیں

 

کبھی کبھی میں اپنے ہی اندر چینتا ہوں ، چلاتا ہوں ،

خود سے لڑتا ہوں اور اپنا ہی گریبان پکڑ کر خود کو جھنجھوڑ کر کہتا ہوں 

کہ مجھے خوش رہنا ہے۔ مجھے اس تکلیف سے نکلنا ہے ، میں اپنے آگے ہی

 ہاتھ جوڑ دیتا ہوں کہ خدا کیلئے اس تکلیف کو یہیں ختم کر دیا جائے ، اب 

اور ہمت نہیں رہی ۔ پر میں اپنے آگے ہی بے بس ہو جاتا ہوں کیونکہ میں 

اپنی ہی بات نہیں سن پاتا ، خود کو ہی نہیں سمجھ پاتا ۔ اور کتنی تکلیف 

ہوتی نا جب آپ خود کو ہی نہ سمجھ پائیں ، خود ہی سے ہار جائیں اپنے

 آگے ہی ہاتھ جوڑ لیں اور سب سے بڑھ کر کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے نا کہ جب 

آپ خوش رہنا چاہیں لیکن رہ نہ پائیں


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جو مٹا ہے تیرے جمال پر... صنم اردو شاعری

ایسی زندگی کو زندگی کون کہے گا جس میں تم ساتھ نہیں تھے