اشاعتیں

ایسی زندگی کو زندگی کون کہے گا جس میں تم ساتھ نہیں تھے

مسئلہ یہ نہیں کہ تم سے محبت ہے یا تمہاری عادت ہے مسئلہ کہ تم روح  میں اترے ہوے ہو روح کہ ساتھ ہی بدن سے نکلو گے مسئلہ جوانی کا بھی  نہیں ہے مسئلہ بڑھاپے ہے جب نگاہیں دھندلی ہو جائیں گی تو جوانی کہ  دنوں کی سے بڑی یادگار تم ہوگے اور آخری لمحوں میں اگر نہیں ہو گے ۔ تو  موت سے زیادہ ملال اپنی رایاگانی ہو گا کیا فائدہ ہو گا ایسی زندگی کا  جس میں تمہاری قربت کی مٹھاس کی جگہ ہجر کی تلخی گھلی ہو اور  ایسی زندگی کو زندگی کون کہے گا جس میں تم ساتھ نہیں تھے  💯💔

اور کتنی تکلیف ہوتی نا جب آپ خود کو ہی نہ سمجھ پائیں

  کبھی کبھی میں اپنے ہی اندر چینتا ہوں ، چلاتا ہوں ، خود سے لڑتا ہوں اور اپنا ہی گریبان پکڑ کر خود کو جھنجھوڑ کر کہتا ہوں  کہ مجھے خوش رہنا ہے۔ مجھے اس تکلیف سے نکلنا ہے ، میں اپنے آگے ہی  ہاتھ جوڑ دیتا ہوں کہ خدا کیلئے اس تکلیف کو یہیں ختم کر دیا جائے ، اب  اور ہمت نہیں رہی ۔ پر میں اپنے آگے ہی بے بس ہو جاتا ہوں کیونکہ میں  اپنی ہی بات نہیں سن پاتا ، خود کو ہی نہیں سمجھ پاتا ۔ اور کتنی تکلیف  ہوتی نا جب آپ خود کو ہی نہ سمجھ پائیں ، خود ہی سے ہار جائیں اپنے  آگے ہی ہاتھ جوڑ لیں اور سب سے بڑھ کر کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے نا کہ جب  آپ خوش رہنا چاہیں لیکن رہ نہ پائیں

تم نے کبھی کسی گونگے کو روتے ہوئے سنا ہے!

  تم نے کبھی کسی گونگے کو روتے ہوئے سنا ہے انہیں روتے ہوئے سننا بڑا اذیت ناک ہوتا ہے  وہ اپنا دکھ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے تو بولنے والوں سے زیادہ شدت سے روتے ہیں گونگے کے رونے کی آواز بڑی غیر انسانی ہوتی ہے  یوں لگتا ہے جیسے کسی جانور کو کند چھری سے ذبح کیا جا رہا اور مجھے ایسا تب محسوس ہوا جب میں اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر  اپنی  چیچنیں روکتا ہوں

محبت 🍁

جب آپ پیدا ھوئے تھے سب نے آپ سے محبت کی تھی جب آپ مر جائیں گے سب آپ سے محبت کا اظہار کریں گے درمیانی مدت میں پیار کا نظام آپ کو خود چلانا ھے ❣️ وقـاص

تو میری جان کسی اور کی ہو جائے گی 😔🥀کل تلک میرا مقدر تھی تری زلف 💔😔حبیب جالب

 آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی تو مری جان کسی اور کی ہو جائے گی کل تلک میرا مقدر تھی تری زلف کی شام کیا تغیر ہے اب غیر کی کہلائے گی  میرے غم خانے میں تو اب نہ کبھی آئے گی تیری سہمی ہوئی معصوم نگاہوں کی زباں میری محبوب کوئی اجنبی کیا سمجھے گا کچھ جو سمجھا بھی تو اس عین خوشی کے ہنگام تیری خاموش نگاہی کو حیا سمجھے گا رہنِ غم وقفِ الم سادہ دلوں کی آنکھیں تیرے بہتے ہوئے اشکوں کو ادا سمجھے گا  میری دم ساز زمانے سے چلی آتی ہیں یہ نیا ظلم نہیں پیار کے متوالوں پر ہم نے دیکھیں یونہی نم سادہ دلوں کی آنکھیں اور رولیں کوئی دم سادہ دلوں کی آنکھیں حبیب جالب