جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا ہوئیں جس پہ تیری نوازشیں وہ بہار بن کے سنور گ تری مست آنکھ نے اے صنم مجھے کیا نظر سے پلا دیا کہ شراب خانے اجڑ گئے جو نشہ چڑھا تھا اتر گیا ترے دید سے اے صنم چمن آرزؤں کا مہک اٹھا ترے حسن کی جو ہوا چلی تو جنوں کا مجھے سب خبر ہے مرے صنم کہ رہ فناؔ میں حیات ہے اسے مل گئی نئی زندگی ترے آستاں پہ جو مر گیاا
مسئلہ یہ نہیں کہ تم سے محبت ہے یا تمہاری عادت ہے مسئلہ کہ تم روح میں اترے ہوے ہو روح کہ ساتھ ہی بدن سے نکلو گے مسئلہ جوانی کا بھی نہیں ہے مسئلہ بڑھاپے ہے جب نگاہیں دھندلی ہو جائیں گی تو جوانی کہ دنوں کی سے بڑی یادگار تم ہوگے اور آخری لمحوں میں اگر نہیں ہو گے ۔ تو موت سے زیادہ ملال اپنی رایاگانی ہو گا کیا فائدہ ہو گا ایسی زندگی کا جس میں تمہاری قربت کی مٹھاس کی جگہ ہجر کی تلخی گھلی ہو اور ایسی زندگی کو زندگی کون کہے گا جس میں تم ساتھ نہیں تھے 💯💔
کبھی کبھی میں اپنے ہی اندر چینتا ہوں ، چلاتا ہوں ، خود سے لڑتا ہوں اور اپنا ہی گریبان پکڑ کر خود کو جھنجھوڑ کر کہتا ہوں کہ مجھے خوش رہنا ہے۔ مجھے اس تکلیف سے نکلنا ہے ، میں اپنے آگے ہی ہاتھ جوڑ دیتا ہوں کہ خدا کیلئے اس تکلیف کو یہیں ختم کر دیا جائے ، اب اور ہمت نہیں رہی ۔ پر میں اپنے آگے ہی بے بس ہو جاتا ہوں کیونکہ میں اپنی ہی بات نہیں سن پاتا ، خود کو ہی نہیں سمجھ پاتا ۔ اور کتنی تکلیف ہوتی نا جب آپ خود کو ہی نہ سمجھ پائیں ، خود ہی سے ہار جائیں اپنے آگے ہی ہاتھ جوڑ لیں اور سب سے بڑھ کر کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے نا کہ جب آپ خوش رہنا چاہیں لیکن رہ نہ پائیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں